Showing posts with label News. Show all posts
Showing posts with label News. Show all posts

Sunday, February 10, 2008

Heavy Snow fall at Shella Bagh - (Pak Afghan Border)

Pakistan Dawn, Pakistan - 8 hours ago
By Saleem Shahid QUETTA, Feb 6: Thousands of people were stranded in the northern areas of Balochistan after Quetta’s road link with Chaman, Toba Achakzai ...DAWN NEWS













Tuesday, August 7, 2007

WFP in Balochistan's Flood affected Areas

In Pakistan, some 2.5 million people have lost their livelihoods as a result of the floods. The Government has not asked WFP for emergency assistance, but welcomed WFP deliveries of food in some of the worst-hit areas in the first few days of the flooding last month.
WFP is on standby with an emergency operation targeting up to 132,000 people for three months if officially requested.

WFP has already distributed 575 tons of food to 5,330 families (37,310 persons) in Noshki, Kharan, Jaffarabad and Jal Magsi districts. The food basket included wheat flour, pulses, vegetable oil, salt and high-energy biscuits.
On 25 July, WFP also launched a special operation valued at US$980,000 to provide logistics support to the UN-humanitarian community for three months. WFP NEWS









Wednesday, August 1, 2007

Ziarat

Ziarat is a town in Ziarat District, Pakistan. It is a famous holiday resort of Balochistan and nearly every trip from Karachi to Quetta stops at Ziarat. Ziarat ("a Mahommedan shrine"), was the summer residence of the chief commissioner of Baluchistan, and sanatorium for the European troops at Quetta: 8850 ft. above the sea and 33 m. by cart-road from the railway. There is a good watersupply, and the hills around are well-wooded and picturesque. ziarat is also very famous for its juniper trees. The juniper forest in ziarat is the world's second largest forest for junipers. The junipers are considered to be the real treasure of ziarat. There are trees in valley which are more than 7000 years old. In ziarat a herb called ephidra senica is also found in abundance which is useful in extracting a chemical called ephedrine, an important constituent of various medicines especially the cough syrups. Ziarat is a snowfall region, while snowfalling the beauty of the juniper valley(ziarat) is on its verge. In winter season there is no business but with summer the charm comes back. The local dish of ziarat is "saji" athough it is a cultural thing but it has a great taste for everyone. The common languages spoken in the valley are balochi and pashto. More tourists visit the place in summer.



















Thursday, July 19, 2007

بلوچستان: بحالی کے کاموں کا آغاز

بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے انتظامی سربراہان اور نمائندوں کا ایک اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں تمام ڈی سی اوز نے اپنے اپنے اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب نے کہا کہ صوبے میں سیلاب سے متاثرہ آدھے سے زیادہ اضلاع کو پندرہ کروڑ روپے جاری کر دیےگئے ہیں۔ یہ رقم ڈی سی اوز اور عوامی نمائندوں کی کیمٹیاں ان مالکان میں تقسیم کریں گی جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیس کروڑ روپے کی اشیائے خورد و نوش اوردیگرضروری چیزیں تقسیم کی گئی ہیں جن میں خیمے اور ادویات بھی شامل ہیں۔
اگرچہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تھوڑی بہت امداد ہو رہی ہے لیکن پنجاب، سندھ اورسرحد کی حکومتوں نے اس طرح بلوچستان کے سیلاب زدہ افراد کی امداد نہیں کی ہے جیسی انہوں نے ماضی میں قدرتی آفات کے دوران کی تھی۔ اسی طرح غیرملکی اداروں کی جانب سے بھی ابھی تک صوبے میں بحالی کے کام اس تیزی سے شروع نہیں ہوئے ہیں جس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بعض غیرملکی فلاحی اداروں کا موقف ہے کہ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی سکریٹری داخلہ کاموقف ہے کہ تمام غیرملکی اداروں کوصوبائی حکومت سے این او سی لینا چاہیئے تا کہ وہ جہاں کام کرنا چاہتے ہیں وہاں ان کی حفاظت کوممکن بنایا جاسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے امداد دینا چاہتے ہیں انہیں بھی پہلے صوبائی حکومت کومطلع کرنا چاہیے تا کہ انہیں بتایا جا سکے کہ کہاں کہاں کس چیزکی ضرورت ہے۔ حالیہ طوفان اور سیلاب میں بلوچستان میں پچاس ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں، 176 افراد ہلاک اور195 لاپتہ ہیں جبکہ 5 لاکھ جانور ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے برعکس آزاد ذرائع جانی اور مالی نقصان کا تخمینہ اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ صوبائی حکومت کےمطابق فصلوں اور سرکاری املاک کی تباہی کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاہم یہ نقصان اربوں روپے کا ہے اس بارے میں جلد ہی وفاقی حکومت کورپورٹ پیش کی جائےگی۔ بلوچستان میں جھل مگسی، گنداوہ، خصدار، نصیرآباد اور واشوک ماشکیل میں ابھی تک ایسے کئی علاقے ہیں جہاں چھبیس جون کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ کے مطابق ان علاقوں میں لوگوں کوخوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹراستعمال کیۓ جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی تک تمام لوگوں کوخیمے ملے نہیں ہیں۔ صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب کے مطابق چھ ہزار خیمے روزانہ پنجاب سے منگوائے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک پچاس ہزار مذید خیموں کی ضرورت ہے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے حکومتی اقدامات پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید تنقد کی ہے۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ صوبے میں اس طرح کے اقدامات نہیں ہو رہے ہیں جسکی فوری ضرورت ہے۔ بقول انکے کہ حکومت کی نااہلی اورغفلت کی وجہ بڑے پیمانے پرجانی اورمالی نقصان ہوا ہے۔






Monday, July 9, 2007

بلوچستان سیلاب: 156 افراد ہلاک

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اب تک باسٹھ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ سو کے لگ بھگ لوگ لاپتہ ہیں۔ نال سے دل مراد نامی شخص نے بتایا ہے کہ ان کے خاندان کے نو افراد سیلاب میں بہہ گئے ہیں جن میں سے اب تک صرف تین لاشیں نکالی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے بچ کر آنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ موقع پر تیس افراد نے ایک جگہ پر ہاتھوں کی زنجیر بنا لی تھی اور کہا تھا کہ اگر مریں گے تو اکٹھے اور جییں گے تو ایک ساتھ۔ جب سیلابی ریلے آئے تو دو افراد سلیم اور حکیم کے ہاتھ چھوٹ گئے تھے جو بچ گئے باقی کل ملا کر باون افراد تھے جن میں سے سینتالیس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
گل مراد نے بتایا کہ سیلابی ریلوں کے بارے میں اتنظامیہ نے انہیں کوئی اطلاع نہیں دی تھی تاکہ وہ محفوظ مقام پر منتقل ہوجاتے۔
ادھر آواران کے علاقے جاؤ سےرمضان نامی شخص نے بتایا ہے کہ پیر کو مزید چار لاشیں ملی ہیں اور اب تک کُل چونسٹھ لاشیں مل چکی ہیں۔ رمضان نے بتایا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے اب تک بو اٹھ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے میں مذید لاشیں موجود ہیں۔
(ندی) آواران کے علاقے جاؤ سے گزر کر ہنگول ندی میں جاتی ہے۔ جاؤ سے لوگوں نے بتایا ہے کہ جتنی لاشیں ملی ہیں ان تمام کا تعلق ان کے علاقے سے نہیں ہے۔
پسنی، تربت، قلات، جھل مگسی، گندھاوا، نصیرآباد، بولان، مچھ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور دیگر علاقوں سے سو سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صرف ایک سو چھپن افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

Wednesday, July 4, 2007

یواین سیلاب زدگان کی مدد کرے گی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت پاکستان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد آئندہ چند روز کے دوران عالمی امدادی اداروں سے مالی مدد فراہم کرنےکی ہنگامی اپیل کی جائے گی۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے نیشنل ہیومنیٹئرین افیئرز کے ایک اعلی اہلکار فواد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے نیچرل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں اور دیگر غیر حکومتی اداروں کے درمیان سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ابتدائی اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
رابطہ کر کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی تھی تاہم دو دن قبل وزارت خارجہ کی طرف سے انہیں کہا گیا ہےکہ حکومت پاکستان کا اقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب زدگان کو مدد فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فواد حسین کامزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اس وقت نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے ابتدائی رپورٹ بنانے پر کام کر رہا ہے اور چند دنوں کے دوران حکومت پاکستان کی رضامندی کے بعد عالمی امدادی اداروں سے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی اپیل کی جائےگی۔ ان کے بقول اقوام متحدہ نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت پاکستان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد آئندہ چند روز کے دوران عالمی امدادی اداروں سے مالی مدد فراہم کرنےکی ہنگامی اپیل کی جائے گی۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے نیشنل ہیومنیٹئرین افیئرز کے ایک اعلی اہلکار فواد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے نیچرل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں اور دیگر غیر حکومتی اداروں کے درمیان سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ابتدائی اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے چھبیس جون کو حکومت پاکستان سے رابطہ کر کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی تھی تاہم دو دن قبل وزارت خارجہ کی طرف سے انہیں کہا گیا ہےکہ حکومت پاکستان کا اقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب زدگان کو مدد فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فواد حسین کامزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اس وقت نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے ابتدائی رپورٹ بنانے پر کام کر رہا ہے اور چند دنوں کے دوران حکومت پاکستان کی رضامندی کے بعد عالمی امدادی اداروں سے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی اپیل کی جائےگی۔ ان کے بقول اقوام متحدہ نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
بلوچستان کے سیلاب زدگان کو خیمے اور چادروں سے بنی پناہ گاہیں فراہم نہیں کی جائیں گی کیونکہ خیمے زیادہ عرصے کے لیے بہترین شیلٹر ثابت نہیں ہوسکتے ہیں جبکہ بلوچستان میں شدیدگرمی کی وجہ سے جستی چادروں سے بنے شیلٹرکارآمد نہیں ہونگے۔
فواد حسین کے مطابق’ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ جو سٹاک موجود ہے اسے تیار رکھا گیا ہے جبکہ یونیسف اور عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دیگر مقامی اداروں کی مدد سے صاف پانی اورطبی سامان فراہم کیا ہے‘۔
فواد حسین کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں سے متعلق حقائق جاننا اس وقت اقوام متحدہ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے کیونکہ’مواصلاتی نظام درہم بر ہم ہے اور صرف سیٹلائٹ فون کے ذریعے ہی رابطہ ممکن ہے‘۔
سیلاب زدہ علاقوں میں بے گھر لوگوں کو شیلٹر فراہم کرنے کے متعلق اقوام متحدہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے دوران لوگوں کو شیلٹر فراہم کرنے کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے بلوچستان کے سیلاب زدگان کو خیمے اور چادروں سے بنی پناہ گاہیں فراہم نہیں کی جائیں گی کیونکہ خیمے زیادہ عرصے کے لیے بہترین شیلٹر ثابت نہیں ہوسکتے ہیں جبکہ بلوچستان میں شدیدگرمی کی وجہ سے جستی چادروں سے بنے شیلٹرکارآمد نہیں ہونگے۔ ان کے بقول دو تین قسم کے مٹیریل کو آپس میں ملا کر ہی لوگوں کو ایک عارضی شیلٹرفراہم کیا جائےگا تاکہ وہ بارش اور گرمی دونوں کا مقابلہ کر سکے۔
ان کے مطابق سیلاب کی وجہ سے تمام سڑکیں بہہ گئی ہیں اور گاڑیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا کافی مشکل ہے لہٰذا جب تک راستے بحال نہیں ہوتے تب تک امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹروں سے ہی کام لیا جائے گا۔
ایران کے سفیر نے حکومت پاکستان کو پیشکش کی کہ ان کا ملک بلوچستان کے پڑوس میں واقع ہونے کی وجہ سے پانچ مقامات تفتان، پنجگور، واشک، رودک اور گوادر پر حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔ ایران کے سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی چاہ بہار پورٹ کو بھی امدادی سامان کے لیے استعمال کرنے کو تیار ہے اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے سے گوادر تک امدادی سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء حکومت پاکستان کی جانب سے امداد کے لیے اپیل کے حوالے سے متضاد ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک جانب تو ایوانِ صدر میں ہونے والے اجلاس میں حکومت پاکستان نے واضع کیا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبوں میں بارشوں اور سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہ کاریوں کے باوجود اس کا فی الحال بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تو دوسری جانب اسی حوالے سے پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے نیچرل ڈیزائسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ میجر جنرل فاروق احمد خان نے پیر کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کئی ممالک کے سفیروں، عالمی امدادی اداروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو ایک بریفنگ بھی دی ہے۔
اس اجلاس میں شریک ایک عالمی امدادی ادارے کے اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بریفنگ کے دوران میجر جنرل فاروق احمد خان نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی طرح اس بار بھی عالمی برادری، امدادی ادارے اور اقوام متحدہ کو سیلاب کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیئیں۔
میجر جنرل فاروق احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں سیلاب کی وجہ تقریباً ایک ملین لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور حکومت نے متاثرہ لوگوں میں بتیس ہزار کمبل تقسیم کئے ہیں جبکہ ایک لاکھ خیموں کا آرڈر دیا گیا ہے۔
جب تک راستے بحال نہیں ہوتے تب تک امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹروں سے ہی کام لیا جائے گا۔
بریفنگ کے دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کی مدد کے لیے فوج کے دو بریگیڈ متاثرہ علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے ایک بریگیڈ ضلع تربت میں متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔
عالمی امدادی ادارے کے اہلکار کے مطابق بریفنگ کے دوران ایران کے سفیر نے حکومت پاکستان کو یہ پیشکش کی وہ بلوچستان کے پڑوس میں واقع ہونے کی وجہ سے پانچ مقامات تفتان، پنجگور، واشک، رودک اور گوادر پر حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔ ایران کے سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا چاہ بہار پورٹ کو بھی امدادی سامان کے لیے استعمال کرنے کو تیار ہے اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے سے گوادر تک امدادی سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں جب میجر جنرل فاروق احمد خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں بریفنگ کی تصدیق کی اور کہا کہ اس اجلاس میں تقریباً پچھہتر ممالک کے سفیروں اور نمائندوں نے شرکت کی جن میں سے بعض ممالک نےسیلاب زدگان کو مدد فراہم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے بقول حکومت پاکستان نے عالمی برادری سے باقاعدہ مدد کی درخواست نہیں کی ہے تاہم پاکستان بین الاقوامی برادری کی جانب سے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور’جو بھی مدد کرنا چاہے حکومت پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘۔

Pakistan Flood Toll Rises To 240

Another 200 people, mainly in Balochistan, are missing, they add. The storm and floods have affected two million people in 15 districts of Balochistan province. Heavy monsoon rain and winds have also lashed five Indian states with at least 40 flood-related deaths in Maharashtra, officials say. In neighbouring Gujarat state, at least 14 people were killed in flooding. Heavy rains also hit parts of Andhra Pradesh and Karnataka states. Storms have affected large parts of South Asia over the past week, with at least 140 people killed week elsewhere in India. And in flooded parts of Afghanistan, more than 80 people have died in recent days, while several dozen others were killed in Pakistan's tribal areas along the border.