Monday, February 4, 2008

Tuesday, August 21, 2007

Night Vision





Tuesday, August 7, 2007

WFP in Balochistan's Flood affected Areas

In Pakistan, some 2.5 million people have lost their livelihoods as a result of the floods. The Government has not asked WFP for emergency assistance, but welcomed WFP deliveries of food in some of the worst-hit areas in the first few days of the flooding last month.
WFP is on standby with an emergency operation targeting up to 132,000 people for three months if officially requested.

WFP has already distributed 575 tons of food to 5,330 families (37,310 persons) in Noshki, Kharan, Jaffarabad and Jal Magsi districts. The food basket included wheat flour, pulses, vegetable oil, salt and high-energy biscuits.
On 25 July, WFP also launched a special operation valued at US$980,000 to provide logistics support to the UN-humanitarian community for three months. WFP NEWS









Wednesday, August 1, 2007

Ziarat

Ziarat is a town in Ziarat District, Pakistan. It is a famous holiday resort of Balochistan and nearly every trip from Karachi to Quetta stops at Ziarat. Ziarat ("a Mahommedan shrine"), was the summer residence of the chief commissioner of Baluchistan, and sanatorium for the European troops at Quetta: 8850 ft. above the sea and 33 m. by cart-road from the railway. There is a good watersupply, and the hills around are well-wooded and picturesque. ziarat is also very famous for its juniper trees. The juniper forest in ziarat is the world's second largest forest for junipers. The junipers are considered to be the real treasure of ziarat. There are trees in valley which are more than 7000 years old. In ziarat a herb called ephidra senica is also found in abundance which is useful in extracting a chemical called ephedrine, an important constituent of various medicines especially the cough syrups. Ziarat is a snowfall region, while snowfalling the beauty of the juniper valley(ziarat) is on its verge. In winter season there is no business but with summer the charm comes back. The local dish of ziarat is "saji" athough it is a cultural thing but it has a great taste for everyone. The common languages spoken in the valley are balochi and pashto. More tourists visit the place in summer.



















Tuesday, July 24, 2007

Vision





Thursday, July 19, 2007

بلوچستان: بحالی کے کاموں کا آغاز

بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے انتظامی سربراہان اور نمائندوں کا ایک اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں تمام ڈی سی اوز نے اپنے اپنے اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب نے کہا کہ صوبے میں سیلاب سے متاثرہ آدھے سے زیادہ اضلاع کو پندرہ کروڑ روپے جاری کر دیےگئے ہیں۔ یہ رقم ڈی سی اوز اور عوامی نمائندوں کی کیمٹیاں ان مالکان میں تقسیم کریں گی جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیس کروڑ روپے کی اشیائے خورد و نوش اوردیگرضروری چیزیں تقسیم کی گئی ہیں جن میں خیمے اور ادویات بھی شامل ہیں۔
اگرچہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تھوڑی بہت امداد ہو رہی ہے لیکن پنجاب، سندھ اورسرحد کی حکومتوں نے اس طرح بلوچستان کے سیلاب زدہ افراد کی امداد نہیں کی ہے جیسی انہوں نے ماضی میں قدرتی آفات کے دوران کی تھی۔ اسی طرح غیرملکی اداروں کی جانب سے بھی ابھی تک صوبے میں بحالی کے کام اس تیزی سے شروع نہیں ہوئے ہیں جس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بعض غیرملکی فلاحی اداروں کا موقف ہے کہ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی سکریٹری داخلہ کاموقف ہے کہ تمام غیرملکی اداروں کوصوبائی حکومت سے این او سی لینا چاہیئے تا کہ وہ جہاں کام کرنا چاہتے ہیں وہاں ان کی حفاظت کوممکن بنایا جاسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے امداد دینا چاہتے ہیں انہیں بھی پہلے صوبائی حکومت کومطلع کرنا چاہیے تا کہ انہیں بتایا جا سکے کہ کہاں کہاں کس چیزکی ضرورت ہے۔ حالیہ طوفان اور سیلاب میں بلوچستان میں پچاس ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں، 176 افراد ہلاک اور195 لاپتہ ہیں جبکہ 5 لاکھ جانور ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے برعکس آزاد ذرائع جانی اور مالی نقصان کا تخمینہ اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ صوبائی حکومت کےمطابق فصلوں اور سرکاری املاک کی تباہی کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاہم یہ نقصان اربوں روپے کا ہے اس بارے میں جلد ہی وفاقی حکومت کورپورٹ پیش کی جائےگی۔ بلوچستان میں جھل مگسی، گنداوہ، خصدار، نصیرآباد اور واشوک ماشکیل میں ابھی تک ایسے کئی علاقے ہیں جہاں چھبیس جون کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ کے مطابق ان علاقوں میں لوگوں کوخوراک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹراستعمال کیۓ جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی تک تمام لوگوں کوخیمے ملے نہیں ہیں۔ صوبائی سکریٹری داخلہ طارق ایوب کے مطابق چھ ہزار خیمے روزانہ پنجاب سے منگوائے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک پچاس ہزار مذید خیموں کی ضرورت ہے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے حکومتی اقدامات پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید تنقد کی ہے۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ صوبے میں اس طرح کے اقدامات نہیں ہو رہے ہیں جسکی فوری ضرورت ہے۔ بقول انکے کہ حکومت کی نااہلی اورغفلت کی وجہ بڑے پیمانے پرجانی اورمالی نقصان ہوا ہے۔